Wednesday, 20 October 2021

مرشد ہماری عمر سنورنے میں کٹ گئی

 مرشد ہماری عمر سنورنے میں کٹ گئی

مرشد ہمارے ہاتھ سے تلوار ہٹ گئی

مرشد تمام خواب ہمارے بکھر گٸے

مرشد بلائے ہجر جو آئی، لپٹ گئی

مرشد غریب شخص کے حصے میں وہ کہاں

مرشد ہماری چاہ کہیں اور بٹ گئی

مرشد جو ترکِ عشق کی ٹھانی کبھی کبھی

مرشد محبتوں کی انا خوب ڈٹ گئی

مرشد ہمارے ساتھ عجب سانحہ ہوا

مرشد ہماری آتی محبت پلٹ گئی

مرشد ہمیں دیکھ کر وہ ہنستے رہے مگر

مرشد ہماری سانس وہیں پر سمٹ گئی

مرشد ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں بچا

مرشد ہمارے سر سے اداسی بھی چھٹ گئی


حمزہ نقوی

No comments:

Post a Comment