مرشد ہماری عمر سنورنے میں کٹ گئی
مرشد ہمارے ہاتھ سے تلوار ہٹ گئی
مرشد تمام خواب ہمارے بکھر گٸے
مرشد بلائے ہجر جو آئی، لپٹ گئی
مرشد غریب شخص کے حصے میں وہ کہاں
مرشد ہماری چاہ کہیں اور بٹ گئی
مرشد جو ترکِ عشق کی ٹھانی کبھی کبھی
مرشد محبتوں کی انا خوب ڈٹ گئی
مرشد ہمارے ساتھ عجب سانحہ ہوا
مرشد ہماری آتی محبت پلٹ گئی
مرشد ہمیں دیکھ کر وہ ہنستے رہے مگر
مرشد ہماری سانس وہیں پر سمٹ گئی
مرشد ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں بچا
مرشد ہمارے سر سے اداسی بھی چھٹ گئی
حمزہ نقوی
No comments:
Post a Comment