Saturday, 12 December 2020

کوئی جگنو کوئی تارا نہیں آیا اب تک

 کوئی جگنو کوئی تارا★ نہیں آیا اب تک

ہم نے جس جس کو پکارا، نہیں آیا اب تک

روشنی آنکھ سے ہجرت نہیں کرنے والی

اس تعلق کا کنارا نہیں آیا اب تک💞

دل اسی واسطے روشن ہے مرے سینے میں

ڈوب جانے کا اشارا نہیں آیا اب تک

تتلیوں اور کتابوں کے لیے کھلتے ہیں

تبھی پھولوں کو خسارا نہیں آیا اب تک

تر و تازہ ہیں تری دھوپ کے بادل سر پر

کیسے چھتری کا سہارا نہیں آیا اب تک


شعیب زمان​

No comments:

Post a Comment