نہیں تھا کرنا مگر انکشاف کرتے ہیں
حسین لوگ خطائیں معاف کرتے ہیں
جمی ہے گرد جو یادوں کی ذہن کے اندر
کبھی کبھار اسے اشک صاف کرتے ہیں
ہوا کے ساتھ اگر آئے گلبدن کی مہک
تمام پھول ادب سے طواف کرتے ہیں
وہ رخِ تیرِ نظر موڑ کیوں نہیں لیتے
دل و جگر میں ہی آخر شگاف کرتے ہیں
انہیں بدل دیا میرے مزاج نے یکسر
مرے حریف مرا اعتراف کرتے ہیں
کسی کی ذات پہ تنقید ٹھیس ہوتی ہے
سو یارو! علم کا ہی اختلاف کرتے ہیں
یہ دیکھتے ہیں بھلا مل سکیں گے پھر ان سے
حسن! معاہدۂ انحراف کرتے ہیں
حسن رضا حسانی
No comments:
Post a Comment