Saturday, 12 December 2020

نہیں تھا کرنا مگر انکشاف کرتے ہیں

 نہیں تھا کرنا مگر انکشاف کرتے ہیں

حسین لوگ خطائیں معاف کرتے ہیں

جمی ہے گرد جو یادوں کی ذہن کے اندر

کبھی کبھار اسے اشک صاف کرتے ہیں

ہوا کے ساتھ اگر آئے گلبدن کی مہک

تمام پھول ادب سے طواف کرتے ہیں

وہ رخِ تیرِ نظر موڑ کیوں نہیں لیتے

دل و جگر میں ہی آخر شگاف کرتے ہیں

انہیں بدل دیا میرے مزاج نے یکسر

مرے حریف مرا اعتراف کرتے ہیں

کسی کی ذات پہ تنقید ٹھیس ہوتی ہے

سو یارو! علم کا ہی اختلاف کرتے ہیں

یہ دیکھتے ہیں بھلا مل سکیں گے پھر ان سے

حسن! معاہدۂ انحراف کرتے ہیں


حسن رضا حسانی

No comments:

Post a Comment