Saturday, 12 December 2020

اداس ہاتھوں پہ شوخ مہندی رچا رہی ہے

 اداس ہاتھوں پہ شوخ مہندی رچا رہی ہے

وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی میت سجا رہی ہے

وہ نیم پاگل سی ایک لڑکی ہماری خاطر

زمانے بھر کی اذیتیں سر اٹھا رہی ہے

زمین والوں نے اس پہ جو آسماں گرائے

وہ چھت پہ بیٹھی خدا کو قصہ سنا رہی ہے

تمام کالج میں ایسا لڑکا کوئی نہیں ہے

وہ مجھ پہ شرطیں سہیلیوں سے لگا رہی ہے

وہ میری آنکھوں کے صدقے اپنی تمام ہستی

بغیر سوچے، بغیر سمجھے لٹا رہی ہے

بتا رہی ہے؛ اداسیوں کے وہ اصل معنی

وہ اپنے بچوں کو میری غزلیں سنا رہی ہے

بغیر تیرے ہمارا جینا، ہے کیسا جینا؟

وہ روتے روتے چراغِ ہستی بجھا رہی ہے

خطوط، جن کو سمجھ رہی ہے وہ صرف کاغذ

خطوط کب، وہ تو اک زمانہ جلا رہی ہے

وہ لکھ رہی ہے محبتوں پہ کہانی فیضی

مگر نتیجہ وہ بارِ دِگر مٹا رہی ہے


فیضان مسعود فیضی

No comments:

Post a Comment