اداس ہاتھوں پہ شوخ مہندی رچا رہی ہے
وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی میت سجا رہی ہے
وہ نیم پاگل سی ایک لڑکی ہماری خاطر
زمانے بھر کی اذیتیں سر اٹھا رہی ہے
زمین والوں نے اس پہ جو آسماں گرائے
وہ چھت پہ بیٹھی خدا کو قصہ سنا رہی ہے
تمام کالج میں ایسا لڑکا کوئی نہیں ہے
وہ مجھ پہ شرطیں سہیلیوں سے لگا رہی ہے
وہ میری آنکھوں کے صدقے اپنی تمام ہستی
بغیر سوچے، بغیر سمجھے لٹا رہی ہے
بتا رہی ہے؛ اداسیوں کے وہ اصل معنی
وہ اپنے بچوں کو میری غزلیں سنا رہی ہے
بغیر تیرے ہمارا جینا، ہے کیسا جینا؟
وہ روتے روتے چراغِ ہستی بجھا رہی ہے
خطوط، جن کو سمجھ رہی ہے وہ صرف کاغذ
خطوط کب، وہ تو اک زمانہ جلا رہی ہے
وہ لکھ رہی ہے محبتوں پہ کہانی فیضی
مگر نتیجہ وہ بارِ دِگر مٹا رہی ہے
فیضان مسعود فیضی
No comments:
Post a Comment