Saturday, 12 December 2020

سانس تھی آخری پلٹا نہ پلٹنے والا

 سانس تھی آخری پلٹا نہ پلٹنے والا💢

آنسو تھا آنکھ سے اک میرے چھلکنے والا

کر دیا اس نے مجھے پل میں پرایا کیسے

جان مجھ پر تھا کبھی اپنی چھڑکنے والا

دے رہا تھا مرا دل کب سے گواہی اس کی

جیسے شعلہ ہو کہیں کوئی بھڑکنے والا

چونکا دیتا ہے اچانک ہی کبھی دل کو جو

دل کی دہلیز پہ اک درد دھڑکنے والا

سن کے سندیس یہ دل روتا رہا تھا میرا

دل ہے اب اس کی جدائی میں سسکنے والا

پھر اچانک ہی امڈ آئے ہیں غم کے بادل

اب نہیں جلدی یہ موسم بھی نکھرنے والا

توڑو گے اور کیا، ٹوٹ چکا جو پہلے

کانچ کے جیسے دل نہیں یہ بکھرنے والا


سیما غزل

No comments:

Post a Comment