بہت صبر آزما ایک ایک پل ہے
بتا اس مسئلہ کا کوئی حل ہے؟
میں فرزانوں کی صف میں کیوں کھڑا ہوں
یقیناً میرے سر میں کچھ خلل ہے
ہوا کیا ؟ اے نسیم صبح گاہی
جو مرجھایا ہوا دل کا کنول ہے
دروغِ مصلحت آمیزناداں
یہ اربابِ سیاست کا عمل ہے
جو حاصل ہو شمیم سخت جاں کو
بہت کافی سکوں کا ایک پل ہے
مبارک شمیم
No comments:
Post a Comment