Monday, 24 May 2021

بنا خوشبو کے ہم نے گل کھلایا

 بنا خُوشبو کے ہم نے گُل کھلایا

خدا جانے اسے کس نے بتایا

ہمارے خواب سب سے قیمتی ہیں

تِری آنکھوں سے اندازہ لگایا

یہ کس مٹی میں آخر بیج بوئے

کہاں آ کر مجھے تُو نے اُگایا

خُوشی سے کانپتے تھے سردیوں میں

کہیں سے دُھوپ نے جو منہ دکھایا

انہیں سر سبز قبریں کیوں نہ بولیں

میں جن پر گھاس اُگتی دیکھ آیا

میں پہلے موت سے ڈرتا تھا لیکن

اچانک زندگی کا بھید پایا


شعیب زمان

No comments:

Post a Comment