Monday, 24 May 2021

اس شب کے خاکداں سے ستارہ نکال کر

 اس شب کے خاکداں سے ستارہ نکال کر

دیکھوں گی خواب میں کوئی رستا نکال کر

تھیں جا بجا فصیلیں محبت کی راہ میں

لوٹی ہوں بستیوں سے میں دریا نکال کر

کل رات پھر وہ یاد کے اوراق کھل گئے

میں دیکھتی رہی تِرا چہرہ نکال کر

مصروف زندگی ہے مگر دوستوں کے ساتھ

ملتے ہیں پھر بھی وقت ذرا سا نکال کر

زادِ سفر صدف ہے محبت سو غم نہیں

دل رکھ لیا ہے خواہشِ دنیا نکال کر


صدف رباب

No comments:

Post a Comment