اس شب کے خاکداں سے ستارہ نکال کر
دیکھوں گی خواب میں کوئی رستا نکال کر
تھیں جا بجا فصیلیں محبت کی راہ میں
لوٹی ہوں بستیوں سے میں دریا نکال کر
کل رات پھر وہ یاد کے اوراق کھل گئے
میں دیکھتی رہی تِرا چہرہ نکال کر
مصروف زندگی ہے مگر دوستوں کے ساتھ
ملتے ہیں پھر بھی وقت ذرا سا نکال کر
زادِ سفر صدف ہے محبت سو غم نہیں
دل رکھ لیا ہے خواہشِ دنیا نکال کر
صدف رباب
No comments:
Post a Comment