Monday, 24 May 2021

دل پہ ہے کس کا اجارہ سائیں

 دل پہ ہے کس کا اجارہ سائیں

ہو گیا عشق دوبارہ سائیں

مرنے والے کو بھی اور خود کو بھی

میں نے مٹی میں اُتارا سائیں

اب بھی دشمن سے تو ہے میل ملاپ

کر لیا خود سے کنارا سائیں

میں ابھی گر یہ نہیں کر سکتا

ابھی ہونا ہے اشارہ سائیں

ایک مدت سے نہیں دیکھا ہے

سانس چلنے کا نظارہ سائیں

تیرا ہر روپ بھلا لگتا ہے

پھول ہو یا کہ ستارہ سائیں


کاشف مجید

No comments:

Post a Comment