دل پہ ہے کس کا اجارہ سائیں
ہو گیا عشق دوبارہ سائیں
مرنے والے کو بھی اور خود کو بھی
میں نے مٹی میں اُتارا سائیں
اب بھی دشمن سے تو ہے میل ملاپ
کر لیا خود سے کنارا سائیں
میں ابھی گر یہ نہیں کر سکتا
ابھی ہونا ہے اشارہ سائیں
ایک مدت سے نہیں دیکھا ہے
سانس چلنے کا نظارہ سائیں
تیرا ہر روپ بھلا لگتا ہے
پھول ہو یا کہ ستارہ سائیں
کاشف مجید
No comments:
Post a Comment