تخت خانہ پُری طرح سے ہے
بادشہ بے بسی طرح سے ہے
ہار بھی اک فریب ہے یہاں اور
جیت بھی دھاندلی طرح سے ہے
تیرے حق میں اُٹھائے رکھا ہوا
ہاتھ اب کانپتی طرح سے ہے
اور تو ٹھیک ٹھاک ہے سب کچھ
نبض بس ڈوبتی طرح سے ہے
ساری باتیں وہی پرانی ہیں
لہجہ تھوڑا نئی طرح سے ہے
اب کے انجام جانے کیا ہو گا
ابتدا آخری طرح سے ہے
یہ غنیمت ہے کوئی کوئی تو
آدمی آدمی طرح سے ہے
کون خدمت کرے ہماری ضمیر
ہر کوئی افسری طرح سے ہے
ضمیر طالب
No comments:
Post a Comment