Monday, 24 May 2021

ہجر کا انتظام ہونے لگا

 ہجر کا انتظام ہونے لگا

تیرا دل میں قیام ہونے لگا

خامشی سے بھرا ہوا تھا بدن

ایک دن ہمکلام ہونے لگا

معجزہ ہے کہ ہم درختوں میں

دھوپ کا احترام ہونے لگا

پہلے ذہنی غلام تھا یہ بشر

اب مشینی غلام ہونے لگا

جتنا جھُکتا چلا گیا ہوں میں

اُتنا اونچا مقام ہونے لگا


طارق جاوید

No comments:

Post a Comment