Monday, 24 May 2021

شور ہے گیت جو لے سے نہ ہم آہنگ رہے

 شور ہے گیت جو لَے سے نہ ہم آہنگ رہے

تودۂ خاک ہے تن، روح نہ گر سنگ رہے

یہ الگ بات کہ وہ اگلے نہیں ڈھنگ رہے

کیسے ممکن ہے محبت نہ رہے جھنگ رہے

تپشِ خواب کہیں نیند کو ہی چاٹ نہ لے

دیر تک دھوپ میں کب شوخ کوئی رنگ رہے

ہونٹ آزاد سہی، بات ابھی قید میں ہے

اور کب تک ابھی معلوم نہیں جنگ رہے

جانے کب تک ہمیں لُوٹے گا فریبِ ناموس

کب تلک جہل رہے، بھُوک رہے، ننگ رہے

ہاتھ میں ہاتھ لیے پھرتے تھے سب لوگ یہاں

جب تک عُرس رہے، میلے رہے، سنگ رہے

رزق اتنا جو کشادہ نہیں ہوتا تھا تو کیا

ذہن و دل ایسے کبھی پہلے کہاں تنگ رہے

ننگ و ناموس کا کب سوچتی ہے دل کی لگی

کیا ہے مجذوب کو، پردہ رہے یا ننگ رہے

ایسی ارزانیٔ حیرت ہے کہ پوچھیں نہ حبیب

معجزہ دیکھ کے بھی لوگ نہیں دنگ رہے


حبیب احمد

No comments:

Post a Comment