الجھ بیٹھا تھا دھکم پیل کے ساتھ
کہاں تک دوڑتا میں ریل کے ساتھ
مجھے مجھ سے زیادہ جانتا ہے
بتاؤں کیا اُسے ڈیٹیل کے ساتھ
خبر کیا تھی کہ ایم اے پاس لڑکی
کرے گی عشق دسویں فیل کے ساتھ
کھُلا یہ اب، معزز شخص کا بھی
نکلتا ہے تعلق جیل کے ساتھ
حصارِ عشق سے نکلا نہیں وہ
جُڑا اک بار جو اِس کھیل کے ساتھ
نہ جائے گا ہمارا دوغلا پن
مریں گے ہم دلوں کے میل کے ساتھ
ہمیں کرتی ہے زِچ ہر اک مہینے
حکومت گیس، بجلی، تیل کے ساتھ
رستم نامی
No comments:
Post a Comment