Monday, 24 May 2021

الجھ بیٹھا تھا دھکم پیل کے ساتھ

 الجھ بیٹھا تھا دھکم پیل کے ساتھ

کہاں تک دوڑتا میں ریل کے ساتھ

مجھے مجھ سے زیادہ جانتا ہے

بتاؤں کیا اُسے ڈیٹیل کے ساتھ

خبر کیا تھی کہ ایم اے پاس لڑکی

کرے گی عشق دسویں فیل کے ساتھ

کھُلا یہ اب، معزز شخص کا بھی

نکلتا ہے تعلق جیل کے ساتھ

حصارِ عشق سے نکلا نہیں وہ

جُڑا اک بار جو اِس کھیل کے ساتھ

نہ جائے گا ہمارا دوغلا پن

مریں گے ہم دلوں کے میل کے ساتھ

ہمیں کرتی ہے زِچ ہر اک مہینے

حکومت گیس، بجلی، تیل کے ساتھ


رستم نامی

No comments:

Post a Comment