Monday, 24 May 2021

خلا میں روز ستاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

 خلا میں روز ستاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

بچھڑنے والے دیاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

وہ آنکھ چاہے کسی زاویے سے تکتی ہو

ہزار متن اشاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

ہمارے جیسوں کو موسم ہرا نہیں کرتے

ہم ایسے سبز، بہاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

فرازِ موج سے کہتے ہیں دُور لے جائے

بھنور کے بیچ کناروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

کھلا ہوں جن پہ میں، سود و زیاں نہیں تکتے

جو مل چکے ہیں، خساروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

کسی غزال کے پیروں سے روندے ہوتے ہیں

جو سُرخ پھول کھچاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

تجھ ایسی قوس زمانوں کے بعد دِکھتی ہے

تجھ ایسے رنگ نظاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

یہ انتظار صعوبت ہے جلد بازوں کو

کچھ اس لیے بھی قطاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

کہیں کہیں یہ بھلے آدمی بھی ہوتے ہیں

کہیں پہ لوگ اداروں سے ہٹ کے ملتے ہیں


آزاد حسین آزاد

No comments:

Post a Comment