خلا میں روز ستاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں
بچھڑنے والے دیاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں
وہ آنکھ چاہے کسی زاویے سے تکتی ہو
ہزار متن اشاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں
ہمارے جیسوں کو موسم ہرا نہیں کرتے
ہم ایسے سبز، بہاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں
فرازِ موج سے کہتے ہیں دُور لے جائے
بھنور کے بیچ کناروں سے ہٹ کے ملتے ہیں
کھلا ہوں جن پہ میں، سود و زیاں نہیں تکتے
جو مل چکے ہیں، خساروں سے ہٹ کے ملتے ہیں
کسی غزال کے پیروں سے روندے ہوتے ہیں
جو سُرخ پھول کھچاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں
تجھ ایسی قوس زمانوں کے بعد دِکھتی ہے
تجھ ایسے رنگ نظاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں
یہ انتظار صعوبت ہے جلد بازوں کو
کچھ اس لیے بھی قطاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں
کہیں کہیں یہ بھلے آدمی بھی ہوتے ہیں
کہیں پہ لوگ اداروں سے ہٹ کے ملتے ہیں
آزاد حسین آزاد
No comments:
Post a Comment