ریت بھی کر نہیں سکتی اور نہ پانی کرتا ہے
صحرا میں جو کام تِرا سیلانی کرتا ہے
غور کرو تو باغوں میں بھی بگُولے اُگتے ہیں
سوچو تو صحرا بھی گُل افشانی کرتا ہے
عقل آئی تو پتھر نے پوچھا آئینے سے
بھائی! تُو کس برتے پر حیرانی کرتا ہے
یہ سیلاب نہیں آتا باہر کی جانب سے
نفس کمینہ اندر سے طُغیانی کرتا ہے
سمجھ نہ آئے کاش خدا یا کسی کو بات میری
معنی اصل میں لفظوں کو بے معنی کرتا ہے
اس کے صوم و صلوٰۃ مؤثر اس کے حج مقبول
یار کی راہ میں جو اپنی قربانی کرتا ہے
چلتا رہے گا اس کا سِکہ روزِ قیامت تک
تختِ فقر پہ بیٹھ کے جو سلطانی کرتا ہے
مجلسِ ماتم برپا ہے میرے ہر خلیے میں
اور کہو کوئی ایسی مرثیہ خوانی کرتا ہے
جتنا اس کی راہ میں ماتھا مٹی کرتا ہوں
نُور و نُور وہ اور میری پیشانی کرتا ہے
ان کی جنگ میں کُچلی جاتی ہے مرضی میری
ذہن اپنی اور دل اپنی من مانی کرتا ہے
یادِ یار کی نو طلبی کا جی خوش کرنے کو
روز علی ارمان نئی نادانی کرتا ہے
علی ارمان
No comments:
Post a Comment