Monday, 9 November 2015

یہ مزاج یار کو کیا ہوا انہیں مجھ سے پیار ہے آج کل

یہ مزاج یار کو کیا ہوا انہیں مجھ سے پیار ہے آج کل
میری جستجو میری گفتگو میرا انتظار ہے آج کل
تیرے خطوط نکالنا، کبھی دیکھنا، کبھی چومنا
یہی مشغلہ، یہی سلسلہ، یہی کاروبار ہے آج کل
نہ اکیلا گھر سے نکل میاں ذرا دیکھ بھال کے چل میاں
بڑی ابتری، بڑی رہزنی، بڑی لوٹ مار ہے آج کل
اِسے قتل کر اُسے قتل کر تجھے سات خون معاف ہیں
تیری سلطنت، تیرا دبدبہ، تیرا اقتدار ہے آج کل
ارے کیفؔ کل تو تُو رِند تھا میرے یار تجھ کو کیا ہُوا
بڑا مذہبی، بڑا پارسا، بڑا دین دار ہے آج کل

کیف بھوپالی

No comments:

Post a Comment