Thursday, 25 March 2021

کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا

 کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا 

کچھ بھی نہ تھا ہوا تھی کہانی تھی خواب تھا 

اب عطر بھی ملو تو تکلف کی بُو کہاں 

وہ دن ہوا ہوئے جو پسینہ گلاب تھا 

محمل نشیں جب آپ تھے لیلیٰ کے بھیس میں 

مجنوں کے بھیس میں کوئی خانہ خراب تھا 

تیرا قصوروار،۔ خدا کا گناہ گار 

جو کچھ کہ تھا یہی دلِ خانہ خراب تھا 

ذرہ سمجھ کے یوں نہ مِلا مجھ کو خاک میں 

اے آسمان! میں بھی کبھی آفتاب تھا 


جوہر فرخ آبادی

مادھو رام جوہر

No comments:

Post a Comment