Tuesday, 1 February 2022

آخری کش وہ ایک سگریٹ جس کو ہم نے

 آخری کش


وہ ایک سگریٹ جس کو ہم نے

ہمارے ملنے کے آخری وقت میں پیا تھا

وہ ایک سگریٹ جس سے اٹھتے دھویں میں ہم نے

جدائی کے ان تمام غم کو جلا دیا تھا، اڑا دیا تھا

کہ جو ہمارے بدن کو اندر سے کھا رہے تھے

کہ جیسے دیمک کسی سنہرے شجر کو لگ کر

اسے مسلسل شکستہ خستہ بنا رہی ہو، چبا رہی ہو

وہ ایک سگریٹ تیرے ہونٹوں سے لگ کے میرا

مداوائے رنج بن گیا تھا

کہ جیسے اس کے ہر ایک کَش میں شفائے غم رکھ دیا گیا ہو

کہ جیسے اس کا سلگنا جلنا ہمارے دل کے سکوں کا باعث کیا گیا ہو

کہ جوں ہمارے دلوں کی ساری اذیتوں سے بھری ہوئی

خستہ حال سانسیں اس ایک سگرٹ کے فلٹروں کی سیاہ راہوں میں

قید ہو کر کے رہ گئی ہوں

وہ ایک سگریٹ وقفے وقفے سے

میرے اور تیرے ہونٹ کے درمیان میں رقص کر رہا تھا

اور ایک کے بعد ایک کَش یوں ہی لگ رہے تھے

مگر وہ اک کَش جو آخری تھا، اس ایک کَش سے ذرا سا پہلے

وہ ایک کَش جس کو تم نے اپنی

تمام سانسوں کو یکجا کر کے لگایا تھا نا

اس ایک کَش میں تمہارے ہونٹوں کی ساری حدت سمٹ گئی تھی

کہ جیسے سایے کی ایک ملکہ

فلک پہ چسپاں اس ایک سورج کی سب تمازت کو رٹ گئی تھی

وہ آخری کَش کہ جس کو میں نے

اسی خماری کے زیرِ سایہ لگایا تھا نا

ہمارے ملنے کو حالانکہ اک طویل عرصہ گزر چکا ہے

تم اس گھڑی کو جو مجھ کو جانی

ہزار صدیوں سے بھی زیادہ عزیز تر ہے، بتا چکے ہو

تم اس جگہ سے نہ جانے کب کے ہی جا چکے ہو

مگر وہ سگرٹ کا ایک ٹکڑا جو فلٹروں سے لگا ہوا تھا

مِرے پرس میں ابھی بھی پہلو بدل رہا ہے

سو یعنی سگرٹ کا آخری کَش ابھی بھی ویسے ہی چل رہا ہے


اہتمام صادق

No comments:

Post a Comment