Tuesday, 1 February 2022

ہتھیلیاں جدا کر دی گئی ہیں وائرس کے اندھیروں میں

 ہتھیلیاں جدا کر دی گئی ہیں

( وائرس کے دنوں میں ایک نظم )


ہتھیلیاں جدا کر دی گئی ہیں

وائرس کے اندھیروں میں

سورج شہر خموشاں میں 

چھپنے کی تیاری کر رہا ہے

بادلوں کے جُھنڈ اور ستاروں نے

فلک پر راستہ چھوڑ دیا ہے

ہم نہیں جانتے کہ ہمارے پاؤں بھی

دلدلوں میں غائب ہو گئے ہیں

ہوا میں معلّق چہرہ ہے

جو غبارے کی طرح 

تنہائی میں رقص کر رہا ہے

وبا اور وائرس کے دنوں میں

کمرے میں ڈولتا چہرہ چھت سے ٹکرا کر

لہولہان ہو سکتا ہے

ماسک اور وینٹی لیٹر کے بغیر 

ہم اس چہرے کو وہیں دفن کر دیں گے

جہاں ہماری ہتھیلیاں ہیں 

اور ہمارے پاؤں

مخالف ہوا کھڑکیوں سے آ کر

ہمارے سنگھار دان، کچن 

اور برآمدے پر قبضہ کر سکتی ہے

ہم چیخ کے لیے ابھی بھی

کٹی ہوئی زبانوں کا استعمال کر سکتے ہیں


تبسم فاطمہ

No comments:

Post a Comment