کہا کس نے یہ تم سے کہ محبت میں نہیں کرتا
مگر یہ بات بھی سچ ہے شکایت میں نہیں کرتا
قبیلے کی میں حالت دیکھ کر ہونے لگا پاگل
مگر کچھ سوچ کر جانے بغاوت میں نہیں کرتا
خدا نے جو دیا جتنا میں اس پہ ہی راضی ہوں
کسی کو دیکھ کر بہتر عداوت میں نہیں کرتا
کسی کے ہاتھ سے ہو کر بدن جو ہاتھ میں آئے
اسے چُھو لوں کبھی ایسی حماقت میں نہیں کرتا
کسی کی جیت کی خاطر میں اکثر ہار جاتا ہوں
کسی کا دل دُکھانے کی سیاست میں نہیں کرتا
بھلا جس کو نظر آیا وہی پھر کاٹ کھاتا ہے
زمیں سے اس لیے بھی کچھ صداقت میں نہیں کرتا
جہاں دیکھوں کسی دل پر ملی ہے دسترس مجھ کو
کسی جنگل یا گاؤں پر حکومت میں نہیں کرتا
تمہیں دیکھوں تو جانے لڑ کھڑانے کیوں میں لگتا ہوں
ارے، ایسا نشہ اب جا اجازت میں نہیں کرتا
مِرا گاؤں بھلا کیوں یاد آتا ہے مجھے اتنا
کہ جب اس کی کہیں پر بھی حفاظت میں نہیں کرتا
اسے جاتے ہوئے دیکھا تو رویا ہوں وگرنہ تو
زرا سی بات پر اکبر قیامت میں نہیں کرتا
ادریس اکبر
No comments:
Post a Comment