Tuesday, 1 February 2022

کہا کس نے یہ تم سے کہ محبت میں نہیں کرتا

کہا کس نے یہ تم سے کہ محبت میں نہیں کرتا

مگر یہ بات بھی سچ ہے شکایت میں نہیں کرتا

قبیلے کی میں حالت دیکھ کر ہونے لگا پاگل

مگر کچھ سوچ کر جانے بغاوت میں نہیں کرتا

خدا نے جو دیا جتنا میں اس پہ ہی راضی ہوں

کسی کو دیکھ کر بہتر عداوت میں نہیں کرتا

کسی کے ہاتھ سے ہو کر بدن جو ہاتھ میں آئے

اسے چُھو لوں کبھی ایسی حماقت میں نہیں کرتا

کسی کی جیت کی خاطر میں اکثر ہار جاتا ہوں

کسی کا دل دُکھانے کی سیاست میں نہیں کرتا

بھلا جس کو نظر آیا وہی پھر کاٹ کھاتا ہے

زمیں سے اس لیے بھی کچھ صداقت میں نہیں کرتا

جہاں دیکھوں کسی دل پر ملی ہے دسترس مجھ کو

کسی جنگل یا گاؤں پر حکومت میں نہیں کرتا

تمہیں دیکھوں تو جانے لڑ کھڑانے کیوں میں لگتا ہوں

ارے، ایسا نشہ اب جا اجازت میں نہیں کرتا

مِرا گاؤں بھلا کیوں یاد آتا ہے مجھے اتنا

کہ جب اس کی کہیں پر بھی حفاظت میں نہیں کرتا

اسے جاتے ہوئے دیکھا تو رویا ہوں وگرنہ تو

زرا سی بات پر اکبر قیامت میں نہیں کرتا


ادریس اکبر

No comments:

Post a Comment