کر لیا سر کو علم
سر صحرائے ستم
آپ محفوظ نہ ہم
ایک سیلابِ الم
لے گیا سارے بھرم
پل میں بارود نے کی
بستیِ شوق بھسم
اب تو یکساں ہے میاں
اپنا موجود و عدم
آج بے سود و عبث
کارِ قرطاس و قلم
جس سے ہونا تھا مرا
کیا ہوئی چشمِ کرم
شوکتِ قیصر و جم
مرے پندار سے کم
آبجو ہی سہی ہم
بحر میں ہوں گے نہ ضم
چشمِ صیاد سے تیز
آہوئے دشت کا رم
دیکھ بھی جھیل بھی لی
ہم نے ہر صورتِ غم
اپنے دیکھے ہوئے ہیں
راہ کے سب خم و چم
آخرش خاک ہوئے
کیا سے کیا جاہ و حشم
کتنی جنگوں کا جنم
امن کا آخری دم
سر و سودا کی قسم
سنو دیوار کی دھم
غیرتِ اوجِ انا
کر لیا سر کو علم
سر کٹے پر نہ گھٹے
قامتِ دل کا بھرم
دیکھ مقتل کی طرف
خود بخود اٹھتے قدم
پڑھ لہو نے جو کیا
اک نیا عہد رقم
جلیل عالی
No comments:
Post a Comment