Saturday, 16 October 2021

کچھ اس طرح دل سے عشق اس کا نکالنا ہے

 کچھ اس طرح دل سے عشق اس کا نکالنا ہے

بغیر گلک کو توڑے سکہ نکالنا ہے

میں جانتا ہوں محبتوں کا مقام آخر

سو اس کے کمرے سے مجھ کو پنکھا نکالنا ہے

نکال پھینکی گھڑی کلائی سے اس کی دی ہوئی

اب اپنے خاطر اک آدھ گھنٹہ نکالنا ہے

زمین کھودیں جنہیں بنانی ہیں قبر گاہیں

زمین جوتیں جنہیں خزانہ نکالنا ہے

نکال لایا جو مجھ کو لہروں کی سازشوں سے

مجھے سمندر سے اب وہ تنکا نکالنا ہے


چراغ شرما

No comments:

Post a Comment