جنگ جتنی ہو سکے دشوار ہونی چاہیۓ
جیت حاصل ہو تو لذت دار ہونی چاہیۓ
ایک عاشق کل سلامت شہر میں دیکھا گیا
یہ خبر تو سرخیٔ اخبار ہونی چاہیۓ
کہہ رہی ہے آجکل غزلیں کسی کے عشق میں
وہ کہ جو خود زینتِ اشعار ہونی چاہیۓ
عشق دونوں نے کیا تھا خودکشی بس میں کروں
وہ بھی مرنے کے لیے تیار ہونی چاہیۓ
دل کی نادانی ہی بس کافی نہیں ہے عشق میں
عقل بھی تھوڑی بہت بیمار ہونی چاہیۓ
پیار ہے تو ہاتھ اس کا تھام اپنے ہاتھ میں
جنگ ہے تو ہاتھ میں تلوار ہونی چاہیۓ
چراغ شرما
No comments:
Post a Comment