مستی ہی تیری آنکھوں کی ہے جام سے لذیذ
ہے ورنہ کون شے مئے گلفام سے لذیذ
چٹکارے کیوں بھرے نہ زباں تیرے ذکر میں
کوئی مزہ نہیں ہے تِرے نام سے لذیذ
گالی وہ اس کی ہونٹوں کی آنکھیں دکھاتے وقت
ق
انشاؔ کو لذت اس کی جوانی کے حسن کی
ہے اور طِفلگی کے بھی ایام سے لذیذ
آ جاوے پختگی پہ جو میوہ درخت کا
وہ کیوں نہ ہو بھلا ثمرِ خام سے لذیذ
انشا اللہ خان انشا
No comments:
Post a Comment