Wednesday, 6 January 2016

مستی ہی تیری آنکھوں کی ہے جام سے لذیذ

مستی ہی تیری آنکھوں کی ہے جام سے لذیذ
ہے ورنہ کون شے مئے گلفام سے لذیذ
چٹکارے کیوں بھرے نہ زباں تیرے ذکر میں
کوئی مزہ نہیں ہے تِرے نام سے لذیذ
گالی وہ اس کی ہونٹوں کی آنکھیں دکھاتے وقت
وہ شے ہے، ہے جو پستہ و بادام سے لذیذ
ق
انشاؔ کو لذت اس کی جوانی کے حسن کی
ہے اور طِفلگی کے بھی ایام سے لذیذ
آ جاوے پختگی پہ جو میوہ درخت کا
وہ کیوں نہ ہو بھلا ثمرِ خام سے لذیذ

انشا اللہ خان انشا

No comments:

Post a Comment