ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا
تس پر یہ غضب پوچھتے ہو نام ہمارا
تم نے تو نہیں، خیر یہ فرمائیے بارے
پھر کِن نے لیا، راحت و آرام ہمارا
میں نے جو کہا آئیے مجھ پاس، تو بولے
رکھتے ہیں کہیں پاؤں تو پڑے ہیں کہیں اور
ساقی! تُو ذرا ہاتھ تو لے تھام ہمارا
ٹک دیکھ ادھر، غور کر، انصاف یہ ہے واہ
ہر جرم و گنہ غیر سے اور نام ہمارا
اے بادِ سحر! محفلِ احباب میں کہیو
دیکھا ہے جو کچھ حال تہِ دام ہمارا
ہم کوچۂ دلدار کے ہوتے ہیں تصدق
اے شیخِ حرم! ہے یہی احرام ہمارا
بے تابئ دل کے سبب اس شوخ تک انشاؔ
پہنچے ہے بلا واسطہ پیغام ہمارا
انشا اللہ خان انشا
No comments:
Post a Comment