Wednesday, 6 January 2016

ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا

ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا
تس پر یہ غضب پوچھتے ہو نام ہمارا
تم نے تو نہیں، خیر یہ فرمائیے بارے
پھر کِن نے لیا، راحت و آرام ہمارا
میں نے جو کہا آئیے مجھ پاس، تو بولے
کیوں، کس لیے، کس واسطے، کیا کام ہمارا
رکھتے ہیں کہیں پاؤں تو پڑے ہیں کہیں اور
ساقی! تُو ذرا ہاتھ تو لے تھام ہمارا
ٹک دیکھ ادھر، غور کر، انصاف یہ ہے واہ
ہر جرم و گنہ غیر سے اور نام ہمارا
اے بادِ سحر! محفلِ احباب میں کہیو
دیکھا ہے جو کچھ حال تہِ دام ہمارا
ہم کوچۂ دلدار کے ہوتے ہیں تصدق
اے شیخِ حرم! ہے یہی احرام ہمارا
بے تابئ دل کے سبب اس شوخ تک انشاؔ
پہنچے ہے بلا واسطہ پیغام ہمارا

انشا اللہ خان انشا

No comments:

Post a Comment