Saturday, 2 January 2016

چھیڑا نہ کرو میرے قلم دان کے کاغذ

چھیڑا نہ کرو میرے قلم دان کے کاغذ
ہیں اس میں پڑے بندے کے دیوان کے کاغذ
اس طِفل کو بیتوں کا مِری شوق ہوا تو
محسوس ہوئے سارے گلستان کے کاغذ
ہر وصلی سرکار پہ جدول ہے طلائی
اب آپ لگے رکھنے بڑی شان کے کاغذ
اس شوخ نے کل ٹکڑے زلیخا کے کیے اور
مارے سرِ استاد پہ پھر تان کے کاغذ
دس بیس اکھٹے ہیں خط اس پاس تو قاصد
لے جا کہ یہ ہیں سخت ہی ارمان کے کاغذ
کیا چہرۂ انشاؔ کا ہوا رنگ، کل اس کا
یکبار جو قاصد نے دیا آن کے کاغذ

انشا اللہ خان انشا

No comments:

Post a Comment