Saturday, 2 January 2016

شعلے بھڑک رہے ہیں یوں اپنے تن کے اندر

شعلے بھڑک رہے ہیں یوں اپنے تن کے اندر
دوں لگ رہی ہو جیسے گرمی میں بن کے اندر
جو چاہو تم سو کہہ لو چپ چاپ ہیں ہم ایسے
گویا زباں نہیں ہے اپنے دہن کے اندر
ق
گل سے زیادہ نازک جو دلبرانِ رعنا
ہیں بے کلی میں شبنم کے پیرہن کے اندر
ہے مجھ کو یہ تعجب سوویں گے پانوں پھیلا
یہ رنگ گورے گورے کیونکر کفن کے اندر
غم نے تِرے بٹھایا اے ماہِ مصر خوبی
یعقوب وار ہم کو بیت الحزن کے اندر
یوں بولتا کہے ہے، سنتے ہو میر انشاؔ
"ہیں طرفہ ہم مسافر اپنے وطن کے اندر"

انشا اللہ خان انشا

No comments:

Post a Comment