Tuesday, 5 January 2016

کھولے جب چاند سے اس مکھڑے کا گھونگھٹ عاشق

کھولے جب چاند سے اس مُکھڑے کا گھونگھٹ عاشق
کیوں نہ پھر لیوے بلائیں تِری چٹ چٹ عاشق
نہیں معلوم اجی تم نے یہ کیا پڑھ پھُونکا
کہ تمہیں دیکھتے ہی ہو گئے ہم چٹ عاشق
مے کشی تم کرو غیروں سے بہم تو، اپنے
گھونٹ لہو کے پیئے کیوں نہ غٹاغٹ عاشق
اے نسیمِ سحری! اس سے یہ کہیو کہ تِرا
رات سے اب تو بدلتا نہیں کروٹ عاشق
اک غزل اور نئے قافیہ میں کہہ انشاؔ
جس کے سنتے ہی وہ معشوق ہو جھٹ پٹ عاشق

انشا اللہ خان انشا

No comments:

Post a Comment