ہے ظلم، اُس کو یار کِیا، ہم نے کیا کِیا
کیا جبر اختیار کِیا، ہم نے کیا کِیا
داغوں سے اپنے سینۂ سوزاں کو اے نسیم
یاں رشکِ نو بہار کِیا، ہم نے کیا کِیا
اس رشکِ گل کی خواہشِ بوس و کنار کو
دستِ جنوں سے اپنے گریبانِ صبر کو
اے عشق، تار تار کِیا، ہم نے کیا کِیا
اس سنگدل کے ہجر میں چشموں کو اپنی آہ
مانندِ آبشار کِیا، ہم نے کیا کِیا
وحشت یہ دیکھ ناصحِ مشفق نے جو کہا
ہرگز نہ زینہار کِیا، ہم نے کیا کِیا
جاگے تمام رات عبث مفت آپ کے
کہنے کو اعتبار کِیا، ہم نے کیا کِیا
رہ رہ کے دل میں آوے ہے انشاؔ یہی کہ کیوں
اس دل کو بے قرار کِیا، ہم نے کیا کِیا
انشا اللہ خان انشا
No comments:
Post a Comment