دو چار دن تو رہتے یہ غم ماہ و سال کے
یہ سلطنت بنی ہے بڑی دیکھ بھال کے
شکوہ کُناں ہے کتنی کناروں کی ریت بھی
دریاؤں کی یہ پیاس کو باہر اُچھال کے
میرے لیے تو تُو ہی مکمل جہان تھا
آدھی ہی رہ گئی ہوں میں تجھ کو نکال کے
ظالم ہے کس قدر یہ اُداسی کی واردات
آنسو ہی بس بچا ہے تبسم نکال کے
جادو وہ پہلے جیسا تیری بات میں نہیں
دھاگے اُدھڑ رہے ہیں وہ زخموں کے جال کے
زہرا شاہ
No comments:
Post a Comment