سفر میں ہی چھُپی ان کی خوشی ہے
مسافر کو مسافت بندگی ہے
پریشاں ہوں میں دن میں روشنی سے
تو شب میں چاندنی پیچھے پڑی ہے
نظر سب آ رہا ہے صاف کالا
اندھیروں میں بھی کتنی روشنی ہے
گلے لگ کر میرے صحرا جو رویا
جو باقی تشنگی تھی بُجھ گئی ہے
اُداسی ہے تو پھیکا رنگ، لیکن
یہ مجھ تصویر کا اک رنگ ہی ہے
خطا اس میں نہیں ہے آئینے کی
یہ ساری گرد چہرے پر جمی ہے
پوجا بھاٹیہ
No comments:
Post a Comment