Wednesday, 21 April 2021

جلا کر ہم نے اس دل کو اگرچہ راکھ کر ڈالا

 جلا کر ہم نے اس دل کو اگرچہ راکھ کر ڈالا​

مگر اندر ہی اندر اس کسک نے خاک کر ڈالا​

​یہ ٹھانی تھی کہ ہر قیمت پہ اس کو بھُول جانا ہے​

سو خودکو رفتہ رفتہ اس ہنر میں طاق کر ڈالا​

​کہیں پھر سے تمہاری آرزو دل میں نہ بس جائے​

ہمیں اے دوست اس ڈر نے بہت سفّاک کر ڈالا

​​اچانک پھر کسی کی یاد بن کر شاعری برسی​

کسی آوازنے آنکھوں کو پھر نمناک کر ڈالا​

​غزل یہ دل اسے آخر بھُلا ہی کیوں نہیں دیتا​

وہ جس کی یاد میں دل نے گریباں چاک کر ڈالا​

​غزل​ ناز 

No comments:

Post a Comment