جلا کر ہم نے اس دل کو اگرچہ راکھ کر ڈالا
مگر اندر ہی اندر اس کسک نے خاک کر ڈالا
یہ ٹھانی تھی کہ ہر قیمت پہ اس کو بھُول جانا ہے
سو خودکو رفتہ رفتہ اس ہنر میں طاق کر ڈالا
کہیں پھر سے تمہاری آرزو دل میں نہ بس جائے
ہمیں اے دوست اس ڈر نے بہت سفّاک کر ڈالا
اچانک پھر کسی کی یاد بن کر شاعری برسی
کسی آوازنے آنکھوں کو پھر نمناک کر ڈالا
غزل یہ دل اسے آخر بھُلا ہی کیوں نہیں دیتا
وہ جس کی یاد میں دل نے گریباں چاک کر ڈالا
غزل ناز
No comments:
Post a Comment