Wednesday, 21 April 2021

دیوار خریدی تھی تو در بیچ دیا تھا

 دیوار خریدی تھی تو در بیچ دیا تھا

بچوں نے مِرا خواب نگر بیچ دیا تھا

منزل تھی کھڑی سامنے کھولے ہوئے بازو

راہی نے مگر رختِ سفر بیچ دیا تھا

بیٹی کی تمنا کہ ہو سونے کی انگھوٹی

اک باپ نے روتے ہوئے گھر بیچ دیا تھا

غربت کی کہانی کا یہ عالم تھا سرِ شام

رکھی تھی انا میز پہ، سر بیچ دیا تھا

بیٹے کو میرے چند کتابوں کی طلب تھی

آنگن میں کھڑا میں نے شجر بیچ دیا تھا​


شاہد اسلم

No comments:

Post a Comment