Wednesday, 21 April 2021

کیوں یاد یہ سب قحط کے اسباب نہ آئے

کیوں یاد یہ سب قحط کے اسباب نہ آئے

جب ہم نے دعا کی تھی کہ سیلاب نہ آئے

ہم کو تو اترنا ہے سمندر کی تہوں میں

ہاتھ آئے کہ اب گوہر نایاب نہ آئے

تدبیر کے محور پہ رہا میں یونہی رقصاں

تعبیر کے مرکز پہ مِرے خواب نہ آئے

باہر جو اٹھے شور تو کھڑکی سے نہ جھانکو

آنکھوں پہ تمہاری کہیں تیزاب نہ آئے

اعلان کیا اڑتی ہوئی خاک نے ہر سمت

منظر پہ کوئی خطۂ شاداب نہ آئے

میں نے جو کہا تخم وفا ہیں مِرے آنسو

کہنے لگے مٹی میں انہیں داب نہ آئے

نکلے ہیں سر شام لیے مشعل فن ہم

نزدیک کوئی کاغذی مہتاب نہ آئے


مہتاب عالم

No comments:

Post a Comment