نہیں ہے کچھ بھی لبوں پہ سوائے بسم اللہ
یہ صبر اور توکّل، عطائے بسم اللہ
خبر نہیں یہ محبت ہے یا عقیدت ہے؟
جو تجھ کو دیکھوں تو ہونٹوں پہ آئے بسم اللہ
میں جان بوجھ کے گِرتا تھا یارو بچپن میں
کہ اپنی ماں سے سنوں میں صدائے بسم اللہ
اگرچہ بولنے دیتی نہیں انا مجھ کو
رُواں رُواں میرا تُجھ کو بُلائے بسم اللہ
رہِ وفا کا ہے درپیش پھر سفر مجھ کو
کہ جس کسی کو بھی آنا ہے آئے بسم اللہ
آصف عنایت
No comments:
Post a Comment