Wednesday, 21 April 2021

میں دراوڑ سندھ کا تو آریائی دیوتا

 میں دراوڑ سندھ کا، تُو آریائی دیوتا

کب ہُوا تاریخ میں انساں کا بھائی دیوتا

بادلوں کی گھن گرج کے خوف نے بنوا دئیے

مشتری، مریخ، سورج ابتدائی دیوتا

پسلیوں سے کھینچ کے دستِ ازل نے ایک شب

خُلد خانے میں تِری دیوی بنائی دیوتا

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے تو اور بھی آئے مگر

کون ہے مجھ سا خدایا! ارتقائی دیوتا؟

شِیرۂ انگور، گندم، سیب، چاول، جَو، کجھور

کھا گئے افسوس میری سب کمائی دیوتا

اب بھی یونان قدیم و گمشدہ کی خاک پہ

لڑ رہے ہوں گے کہیں اپنی لڑائی دیوتا


احمد جہانگیر

No comments:

Post a Comment