آباد بستیوں سے نئے بیج لائیں گے
ماٹی! تِرے درخت پرندے لگائیں گے
پیارے! میں شمعدار ہوں، تُو ہے ظروف ساز
دونوں ہی بادشاہ سے تنخواہ پائیں گے
روکو، بحکمِ شامِ ابد یہ ازل کا رتھ
ہم آخرالزمان بھی ہمراہ جائیں گے
کہئے تو مشک و نُور کا برتن اُٹھا کے دوں
کیچڑ سے آپ شاہ کی مُورت بنائیں گے
مٹکوں میں سلسبیل بھری، بوریوں میں من
اُشتر سوار اب کے بہت دُور جائیں گے
سُورج تو دن کے وقت ہمیں جھیلنا پڑا
شب اپنے اختیار سے شمعیں جلائیں گے
احمد جہانگیر
No comments:
Post a Comment