لمحہ لمحہ جو یہ خود کو مٹا رہی ہو تم
بھُلا سکو گی نہ جس کو بھُلا رہی ہو تم
تمہارے دل میں یہ کس کا خیال رہتا ہے
وہ بات کیا ہے جو سب سے چھُپا رہی ہو تم
سُلگ رہی ہو خموشی کی آگ میں تنہا
یہ کیسا وعدہ ہے جس کو نِبھا رہی ہو تم
یہ زرد چہرہ یہ آنکھیں کہاں چھُپاؤ گی
جو راتیں ہجر کی تنہا بِتا رہی ہو تم
منا بھی لو گی تو آخر وہ رُوٹھ جائیں گے
ادائے خاص سے جن کو منا رہی ہو تم
فوزیہ مغل
No comments:
Post a Comment