Wednesday, 21 April 2021

لمحہ لمحہ جو یہ خود کو مٹا رہی ہو تم

 لمحہ لمحہ جو یہ خود کو مٹا رہی ہو تم

بھُلا سکو گی نہ جس کو بھُلا رہی ہو تم

تمہارے دل میں یہ کس کا خیال رہتا ہے

وہ بات کیا ہے جو سب سے چھُپا رہی ہو تم

سُلگ رہی ہو خموشی کی آگ میں تنہا

یہ کیسا وعدہ ہے جس کو نِبھا رہی ہو تم

یہ زرد چہرہ یہ آنکھیں کہاں چھُپاؤ گی

جو راتیں ہجر کی تنہا بِتا رہی ہو تم

منا بھی لو گی تو آخر وہ رُوٹھ جائیں گے

ادائے خاص سے جن کو منا رہی ہو تم


فوزیہ مغل

No comments:

Post a Comment