Wednesday, 4 August 2021

تجھے پکار رہی ہوں یہی مری حد ہے

 تجھے پکار رہی ہوں یہی مِری حد ہے

اب اس سے بڑھ کے بھلا اور بھی کوئی حد ہے

مجھے ملی ہے مِرے گھر سے کافی آزادی

مگر یہ شرم و حیا میری اپنی ہی حد ہے

تمہاری شرطوں پہ جیتے رہے ہیں ساری عمر

تمہاری نظروں میں کیا یہ بھی سرسری حد ہے

تو یعنی ہاتھ اٹھائے گا اب کے تُو مجھ پر؟

تو یعنی گرنے کی تیری یہ آخری حد ہے

کسی کے پیار میں اقدار بھول سکتی نہیں

میں جانتی ہوں یہ دہلیز ہی مِری حد ہے


بلقیس خان

No comments:

Post a Comment