کوئی منظر مِری آنکھوں میں ہرا رہنے دے
تُو منڈیروں پہ چراغوں کو جلا رہنے دے
کچھ تو دنیا میں بھی جینے کا مزا رہنے دے
واعظ! اتنا بھی نہ خلقت کو ڈرا، رہنے دے
وجہِ تکریمِ جنوں ہے مِری لُکنت واعظ
مجھ کو نہ عرش کے احوال بتا، رہنے دے
پھر بھروں رنگ بصد نازِ تمنا اس میں
درد سینے میں اگر کچھ بھی جگہ رہنے دے
وحدت و دُوئی کی رمزیں ہوں کہ تثلیث اکرام
عشق مرشد ہو تو مشکل نہ ذرا رہنے دے
اکرام قاسمی
No comments:
Post a Comment