Wednesday, 4 August 2021

تری خوشبو پہ وارے جا چکے ہیں

 تِری خوشبو پہ وارے جا چکے ہیں

ہمارے لوگ مارے جا چکے ہیں

کسی گھر سے دھواں اٹھتا نہیں ہے

یہی لگتا ہے سارے جا چکے ہیں

بہت مشکل ہے اب پہچان کرنا

بہت سے روپ دھارے جا چکے ہیں

یہ ہم جس زندگی کو جی رہے ہیں

یہ لمحے تو گزارے جا چکے ہیں

یہ جھیلیں خشک صحرا بن چکی ہیں

وہ خوابوں کے شکارے جا چکے ہیں

فقط حسرت کا ملبہ رہ گیا ہے

سبھی دریا کنارے جا چکے ہیں


اعجاز نعمانی

No comments:

Post a Comment