Monday, 15 March 2021

چلی جو پیا کی گلی دھیرے دھیرے

 چلی جو پیا کی گلی دھیرے دھیرے

مِری آنکھ کیوں نم ہوئی دھیرے دھیرے

ابھرتا گیا مجھ میں وہ لمحہ لمحہ

میں تحلیل ہوتی گئی دھیرے دھیرے

نہ بیساکھیوں کا سہارا لیا ہے

میں پاؤں پہ چلتی رہی دھیرے دھیرے

دوپہریں مکانوں میں پھیلی ہوئی ہیں

میں سائے سی بڑھتی ہوئی دھیرے دھیرے

مِرا ضبط بڑھتا چلا جا رہا ہے

میں پرچھائی ماں کی بنی دھیرے دھیرے

تِری یاد بھی جیسے آری ہے کوئی

مِرے دل پہ چلتی ہوئی دھیرے دھیرے

ہوائے زمانہ مخالف تھی لیکن

میں پرواز کرتی رہی دھیرے دھیرے


بلقیس خان

No comments:

Post a Comment