Monday, 7 February 2022

قتل ہونے آ گئے ہیں دشمنوں کے شہر میں

 قتل ہونے آ گئے ہیں دشمنوں کے شہر میں

کون سا محفوظ تھے ہم دوستوں کے شہر میں

شور ہے ہر اک گلی میں کَھل بلی ہے دور تک

شاعری کس کو سُنائیں پاگلوں کے شہر میں

خالقِ بر حق نگاہِ فیض ہم پر بھی کرو

کٹ رہے ہیں دن ہمارے مشکلوں کے شہر میں

پڑھ نہ لیتے آنے والے عاشقوں سے اس لیے

خط چھپا ڈالے ہیں جاناں دھڑکنوں کے شہر میں

ہو گا وہ انسانیت میں گر یقیں ہو ڈھونڈ لو

رب نہیں موجود ہوتا پتھروں کے شہر میں

اس جگہ آباد دانشور ہیں روبی! رہنے دو

جاہلوں کا کام کیا ہے شاعروں کے شہر میں


روبنسن روبی

No comments:

Post a Comment