Monday, 7 February 2022

کوئی آج وجہ جنوں چاہتا ہوں

کوئی آج وجہ جنوں چاہتا ہوں

تمہیں بھول کر میں سکوں چاہتا ہوں

زمانہ کی حالت سے واقف ہوں پھر بھی

نہ جانے کہ میں تم کو کیوں چاہتا ہوں

تمہاری خوشی پر تمہیں چھوڑ کر اب

تمہاری خوشی میں سکوں چاہتا ہوں

خفا تم سے ہو کر خفا تم کو کر کے

مذاقِ ہنر کچھ فزوں چاہتا ہوں

ورائے محبت بھی اک زندگی ہے

تمہیں پھر بھی میں کیا کہوں چاہتا ہوں

ستم کر کے لطف کرم پوچھتے ہیں

یہ طرز کرم اب فزوں چاہتا ہوں

بدلتی نہیں فطرتِ درد انور

سکوں بھی یہ طرزِ جنوں چاہتا ہوں


عشرت انور

No comments:

Post a Comment