Saturday, 13 November 2021

نشاں منزل کا بتلایا نہ مجھ کو ہمسفر جانا

 نشاں منزل کا بتلایا نہ مجھ کو ہم سفر جانا

تذبذب میں پڑا ہے وہ جسے میں نے خضر جانا

نظر میری بصیرت کو سدا محدود رکھتی ہے

پسِ منظر نہیں دیکھا فقط پیشِ نظر جانا

جہاں تقدیر لے جائے وہاں رستے نہیں جاتے

کیا تھا رخ ادھر کا کیوں لکھا تھا جب ادھر جانا

حوالہ زندگی کا بھی تمہاری زلف جیسا ہے

بکھرنا پھر سنور جانا، سنورنا پھر بکھر جانا

جنوں کی راہ کو اب تک سمجھ پائے نہیں صاحب

کہ اپنے جسم کو ڈھا کر فقط جاں سے گزر جانا

ڈبویا جس نے کشتی کو اسے ہی نا خدا سمجھے

دیے تھے جس نے سارے دکھ اسی کو چارہ گر جانا

انہیں تاریک راہوں سے گزرنا ہے تمہیں عادل

چراغ جاں جلا کر تم بلا خوف و خطر جانا


احمد عادل

No comments:

Post a Comment