Saturday, 13 November 2021

قد کے لحاظ سے تو سبھی آسمان تھے

 قد کے لحاظ سے تو سبھی آسمان تھے

ہم جیسے با کمال مگر بے نشان تھے

جیتے نہ تھے گزارتے رہتے تھے روز و شب

سانسیں نہ تھیں قدم بہ قدم امتحان تھے

تنہا نہتے لڑتے رہے زندگی کی جنگ

لشکر تھا ساتھ اور نہ تیر و کمان تھے

اے اجنبی! نہ پوچھ اداسی کا ماجرا

وہ لوگ کھو گئے ہیں جو بستی کی جان تھے

رشتوں کی اونچ نیچ سے واقف نہ تھا حنیف

میرے عزیز مجھ سے بہت بد گمان تھے


فرحان حنیف وارثی

No comments:

Post a Comment