Thursday, 11 November 2021

ان کے قصے اگر بیاں ہوتے

ان کے قصے اگر بیاں ہوتے

راز سارے تبھی عیاں ہوتے

تم کو آتے ہنر جو رہزن کے

بس تمہی میرِ کارواں ہوتے

بیر ہم سے سہی مگر سوچو

ہم نہ ہوتے تو تم کہاں ہوتے

زندگی! وہ جگہ دکھا دے اب

تجھ کو پاتے تو ہم جہاں ہوتے

ان کی محفل میں دل نہیں لگتا

جب وہ اوروں میں شادماں ہوتے

یہ مکمل اگر جہاں ہوتا

پھر خلاؤں میں کیوں جہاں ہوتے

سوچ میں قربتیں اگر ہوتیں

فاصلے یوں نہ درمیاں ہوتے

تم ہی گوشہ‌ نشین تھے عادل

ورنہ چرچے کہاں کہاں ہوتے


احمد عادل

No comments:

Post a Comment