Thursday, 11 November 2021

تھم تھم کے بارشیں اب جلوہ دکھا رہی ہیں

 تھم تھم کے بارشیں اب جلوہ دکھا رہی ہیں

اس پر تمہاری یادیں ہم کو ستا رہی ہیں

دل کس طرح رہے گا آخر ہمارے بس میں

ساون کی بھینی رُت ہے پریاں بھی گا رہی ہیں

بوندیں ہیں یا شجر پر شمعیں ہوئی ہیں روشن

یہ ڈالیاں بھی دیکھو کیا مسکرا رہی ہیں

دھرتی پہ سبز چادر اللہ نے بچھا دی

آؤ، بہاریں تم کو واپس بلا رہی ہیں

جھینگر کے مست گیتوں کا شور ہے فضا میں

ندیوں کی پائلیں بھی نغمے لٹا رہی ہیں


تاثیر صدیقی

No comments:

Post a Comment