مسلسل خوف ہے اب تو کہیں ایسا نہ ہو جائے
مِری ارض وطن میرے لیے برما نہ ہو جائے
چلے اک دور ایسا بھی سرِ مے خانۂ ہستی
جنوں بن جائے صہبا اور خرد پیمانہ ہو جائے
مِرے صبر و تحمل کو ہنسی میں ٹالنے والے
کسی دن میری خاموشی سخن آسا نہ ہو جائے
دوا بھی دیتے رہتے ہیں لگا دیتے ہیں چرکا بھی
غرض یہ ہے مریض غم کہیں اچھا نہ ہو جائے
گھٹن حد درجہ بہتر ہے نئی سرکش ہواؤں سے
ذرا ثابت قدم رہنا،۔ دریچہ وا نہ ہو جائے
عبداللہ خالد
No comments:
Post a Comment