کہانی کار کہتا ہے سبھی کردار بِکتے ہیں
سبھی کردار بکتے ہیں کہانی کار بکتے ہیں
فقط اتنا بتا دیجے کہ صاحب کیا خریدیں گے
یہاں مضمون بکتے ہیں، یہاں اشعار بکتے ہیں
میں اپنے اشک پیتا ہوں بہت مشکل سے جیتا ہوں
محبت ظلم ڈھاتی ہے مِرے اعزار بکتے ہیں
اگر فن روگ بن جائے بدن کا سوگ بن جائے
تو پھر حالات کے ہاتھوں سبھی فنکار بکتے ہیں
ہمارے عکس حیرت کی نئی تعبیر ہیں صاحب
ہمارے آئینہ خانے پسِ زنگار بکتے ہیں
میں کس جنگل کا باسی ہوں اسد ہوں یا میں آسی ہوں
کہ میرے سامنے اکثر میرے اشجار بکتے ہیں
اسد کمال
No comments:
Post a Comment